اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سیاسی امور کے ماہر حسن ہانی زادہ نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود واشنگٹن اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اسی وجہ سے رہائشی علاقوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں پر اندھا دھند بمباری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کے مطابق جنگ کے دوران شہری آبادی، طبی مراکز اور تعلیمی اداروں کو تحفظ حاصل ہے، لیکن امریکہ ان اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے پیدا کیے جا سکیں۔
حسن ہانی زادہ نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور ہر ممکن امریکی حکمت عملی کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو چکی ہے اور اطلاعات کے مطابق 170 سے زائد بحری جہاز اس آبی گزرگاہ میں رکے ہوئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ان کے مطابق خام تیل کی عالمی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے اثرات امریکہ اور یورپی ممالک کی معیشت اور عوام کی زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔
ہانی زادہ نے کہا کہ امریکہ اکیلا اس جنگ کی قیادت نہیں کر رہا بلکہ ایران کم از کم 30 ممالک کی براہِ راست اور بالواسطہ شمولیت والی جنگ کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے اسے ایران کے خلاف ایک عالمی جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ ایران کی دفاعی قوت دو بنیادی ستونوں پر قائم ہے: مسلح افواج کی طاقت اور عوام کی بھرپور حمایت۔ ان کے بقول، یہی عوامل ایران کی مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔
سیاسی امور کے اس ماہر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس وقت اسلحے اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، اسی لیے وہ شہری علاقوں پر حملوں کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایران ایسی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی حکام کی جانب سے آنے والے بیانات ملک کے سیاسی اتحاد کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ مسلح افواج نے بھی مؤثر جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ان کے بقول، گزشتہ چند دنوں میں خطے میں امریکہ سے وابستہ کم از کم 14 فوجی اڈوں اور مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
حسن ہانی زادہ نے عراق کے نئے وزیر اعظم علی الزیدی کے دورۂ تہران کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق، ایران کے ساتھ اپنے گہرے سیاسی، سلامتی، مذہبی اور عوامی تعلقات کی بنیاد پر کشیدگی کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، امکان ہے کہ عراقی وزیر اعظم دوطرفہ امور کے علاوہ امریکہ کا کوئی پیغام بھی تہران لے کر آئے ہوں اور بغداد موجودہ بحران میں ثالثی کی کوشش کرے۔
آپ کا تبصرہ